Empowering Generations: Equal Education at Smart Minds | تعلیم سب کا حق

Super Admin
  
March 09, 2026
  
Education
Empowering Generations: Equal Education at Smart Minds | تعلیم سب کا حق

بیٹے یا بیٹی؟ تعلیم کا حق کس کا زیادہ؟
تحریر: ملک تسبیح اللہ 
ہماری معاشرت میں اکثر یہ سننے کو ملتا ہے:
"بیٹے کو بیٹی سے زیادہ تعلیم دینی چاہیے، وہ ہمارے گھر کا سہارا بنے گا۔ بیٹی تو شادی کے بعد کسی اور گھر چلی جائے گی، اسے مہنگی تعلیم دینے کا کیا فائدہ؟"
لیکن کیا واقعی تعلیم صرف اس کے لیے ہے جو والدین کا سہارا بنے؟ کیا علم کا مقصد صرف معاشی فائدہ ہے؟ اور کیا بیٹی کی تعلیم اتنی اہم نہیں کیونکہ وہ ایک دن اپنے سسرال چلی جائے گی؟
تعلیم صرف روزگار کے لیے نہیں، بلکہ یہ شعور، کردار اور خوداعتمادی کی بنیاد ہے۔ ایک تعلیم یافتہ بیٹی نہ صرف اپنے سسرال کی زندگی سنوارتی ہے بلکہ اپنے والدین اور آنے والی نسلوں کی بھی رہنمائی کرتی ہے۔ ایک ماں کی گود پہلی درسگاہ ہوتی ہے، اور اگر ماں علم اور شعور سے مالا مال ہو تو پوری نسل ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہے۔
آج کے دور میں بیٹیاں والدین کی خدمت میں پیچھے نہیں ہیں۔ وہ مالی اور عملی طور پر بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ محبت، خیال اور ذمہ داری کا تعلق جنس سے نہیں، بلکہ تربیت اور سوچ سے ہوتا ہے۔
اگر ہم بیٹے کو یہ باور کرائیں کہ وہ سب کچھ سنبھالے گا، اور بیٹی کو یہ سوچائیں کہ وہ عارضی ہے، تو ہم دونوں کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں۔ ایک پر غیر ضروری بوجھ ڈال دیا جاتا ہے اور دوسری کو کم تر سمجھا جاتا ہے۔
مہنگی تعلیم کا اصل فائدہ صرف ڈگری نہیں بلکہ مضبوط شخصیت اور خوداعتمادی ہے۔ یہ مضبوط شخصیت بیٹے اور بیٹی دونوں کے لیے برابر ضروری ہے۔
آئیے سوچیں:
کیا ہم اپنے بچوں کے ساتھ واقعی انصاف کر رہے ہیں؟ یا صرف پرانی روایات کو دہرا رہے ہیں؟
یاد رکھیں، بیٹے اور بیٹیاں دونوں اللہ کی امانت ہیں۔ تعلیم ان دونوں کا حق ہے، اور حق میں فرق کرنا محبت نہیں، بلکہ ناانصافی ہے۔